آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جاۓ گا
وقت کا کیا حیا گزرتا ہے گزر جاۓ گا
اتنا مانوس نہ خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو دار جاۓگا
تم سر راہ وفا دیکھتے رہ جاؤ گے
اور وو بام رفاقت سے اتر جاۓ گا
زندگی تیری اتا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تیری دہلیز پے دھر جاۓ گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پے اتر جاۓ گا
ضابط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
!!....ظالم اب کے بھی نہ رویا تو مر جاۓ گا
Twitter
Facebook
Flickr
RSS